ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اٹل بہاری واجپائی کی آخری رسومات ادا سابق وزیراعظم کے آخری دیدارکیلئے لاکھوں پرستاروں کا جم غفیر

اٹل بہاری واجپائی کی آخری رسومات ادا سابق وزیراعظم کے آخری دیدارکیلئے لاکھوں پرستاروں کا جم غفیر

Sat, 18 Aug 2018 10:32:16    S.O. News Service

نئی دہلی،18؍اگست(ایس او نیوز؍ یو این آئی) ہندوستانی سیاست کی عہد ساز شخصیت سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی آج یہاں روایتی طریقے سے ، وید منتروں ورد اورفلک شگاف نعروں کے درمیان پورے سرکاری احترام کے ساتھ آخری رسومات ادا کی گئیں۔

راجدھانی کے شانتی ون کے قریب راشٹریہ اسمرتی استھل پر بھارت رتن واجپائی کی گود لی ہوئی بیٹی نمتا بھٹا چاریہ نے ان کی چتا کو آگ لگائی اور خصوصی طور سے بلائے گئے پنڈتوں نے بقیہ رسم اداکی۔ اور بندوقوں کی سلامی دی گئی۔ اس سے پہلے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند، نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو، وزیر اعظم نریندر مودی، لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا، وزیر دفاع نرملا سیتا رمن، بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت، فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل بی ایس دھنوآ اور بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سنیل لامبا نے واجپائی کے جسد خاکی پر پھول چڑھائے ۔سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی نے واجپائی کو خراج عقیدت پیش کیا۔

اس کے بعد جسد خاکی سے لپٹا ہوا ترنگا ان کی نواسی کو دے دیا گیا۔اس موقع پرراجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈرغلام نبی آزاد، بی جے پی کے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی، کانگریس صدرراہل گاندھی، سماجوادی پارٹی کے لیڈر ملائم سنگھ یادو، کانگریس کے سینئر رہنما اشوک گہلوٹ، اکالی دل کے سکھبیر سنگھ بادل بھی موجود تھے ۔آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے جب ان کے جسد خاکی کو اسمرتی استھل لایاجا رہا تھا تو اس وقت راستے میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ، بی جے پی صدر امیت شاہ اور کئی دیگر مرکزی وزراء و سینئر لیڈران کڑی دھوپ اور امس بھرے موسم میں بی جے پی دفتر، دین دیال اپادھیائے مارگ سے تقریباً7کلو میٹر پیدل چل کر اسمرتی استھل پہنچے ۔ یہ سبھی ارتھی کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے ۔مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان، مرکزی وزیر وجئے گوئل،رکن پارلیمان انوراگ ٹھاکر سمیت کئی دوسرے لیڈر بھی گاڑی کے پیچھے پیدل چل رہے تھے ۔آخری رسم کی ادائیگی کے وقت اسمرتی استھل کے آس پاس عوام کا جم غفیر جمع تھا اور واجپائی امر رہے کے نعروں سے آسمان گونج رہا تھا۔ لاکھوں کی تعداد میں بچے بوڑھے ،خواتین، نوجوان، کسان،ملازم اور تاجر اپنے عزیزلیڈر کی آخری جھلک پانے کے لئے موجود تھے ۔ آنجہانی کاآخری سفر آئی ٹی او،دلی گیٹ،دریا گنج ہوتے ہوئے اسمرتی استھل پہنچا اورراستے میں دونوں جانب لاکھوں کی تعداد میں کھڑے لوگ نعرے لگاتے ہوئے پھول برسا رہے تھے ۔

آخری سفر کے لئے پورے راستے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔ وزیراعظم مودی کے ساتھ ایس پی جی کے کمانڈوز پیدل چل رہے تھے ۔آنجہانی کے جسد خاکی کو پھولوں سے سجی ایک گاڑی پر رکھا گیا تھا اور گاڑی پر رنگ برنگ کی چھتریاں لگائی گئی تھیں۔اس موقع پر تینوں بری فوج،بحری فوج اور فضائیہ کے دستے موجود تھے ۔ بری فوج کی مراٹھا، سکھ اور گورکھا رجمنٹ کے جوان بھی موجود تھے ۔ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن، کئی مرکزی وزراء و دیگر سینئر رہنما پہلے سے ہی اسمرتی استھل پرپہنچ کر انتظامات کی نگرانی کر رہے تھے ۔واجپائی کی آخری رسوم کی ادائیگی کے وقت ان کے خاندان کے لوگ بھی موجود تھے ۔ بھوٹان کے نریش جگمے وانگ چک، افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی، سری لنکا کے کارگذار وزیر خارجہ لکشمن کریلا، بنگلہ دیش اور نیپال کے وزراء خارجہ اور پاکستان کے وزیر قانون علی ظفر بھی اس موقع پر موجود تھے ۔دریں اثناء بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے بھی سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ۔ ہندوستان میں چین کے سفیر نے بھی اظہار تعزیت کیاہے ۔نیپال کے وزیرا عظم کے پی شرما اولی نے بھی واجپائی کے انتقال پر اظہار تعزیت کیاہے ۔مسٹر اولی نے کہاکہ مسٹر واجپائی غیر متنازعہ اور صاحب بصیرت رہنما تھے ۔جنھیں ان کی بے لوث خدمات کے لئے یاد کیاجائے گا۔پاکستان تحریک انصاف کے صدر اور نامزد وزیراعظم عمران خان نے بھی مسٹر اٹل بہاری واجپائی کے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان ان کی امن کی کوششوں کو ہمیشہ یاد کیاجائے گا ۔مسٹر خان نے واجپائی کو جنوبی ایشیا سیاست کی بڑی شخصیت بتاتے ہوئے کہاکہ انھوں نے وزیراعظم کی حیثیت سے ہندوستان اور پاکستان کے مابین رشتوں کو فروغ دینے کی ذمہ داری نبھائی ۔ اس دکھ کی گھڑی میں ہم ہندوستان کے ساتھ ہیں ۔واجپائی کے انتقال سے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک خلا پیداہوگیاہے ۔


Share: